Monday 14 October 2019
Home      All news      Contact us      Urdu

ہم امریکہ کے غلام نہیں، آزاد ملک ہیں، یوکرینی صدر

ان دنوں جبکہ امریکہ کے سیاسی حلقوں میں صدر ٹرمپ کی یوکرین کے صدر سے خفیہ فون کال کی بنیاد پر مواخذے کے مطالبات کی بازگشت سنی جا رہی ہے، یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ فون پر مذکورہ بات چیت کے حوالے سے انہیں صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجی امداد کے بدلے کسی قسم کی بلیک میلنگ کا سامنا نہیں ہے۔ اس بارے میں افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ نے سابق نائب صدر اور 2020 کے صدارتی انتخاب کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک اُمیدوار جو بائیڈن کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے دباؤ ڈالتے ہوئے یو کرین کو روسی حمایت یافتہ باغیوں سے نمٹنے کیلئے فراہم کی جانے والی فوجی امداد روک رکھی تھی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یوکرین کی فوجی امداد یوکرین میں کرپشن کے خدشات کے باعث روکی تھی۔ تاہم کانگریس کی طرف سے شدید مخالفت کے باعث یہ امداد ستمبر میں جاری کر دی گئی تھی۔ تاہم یوکرین کے صدر نے پہلی بار اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ملک صدر ٹرمپ کی اس درخواست کی مکمل تحقیقات کیلئے تیار ہے کہ 2016 میں ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں مداخلت روس کے بجائے یوکرین نے کی تھی۔  اُن کا کہنا تھا کہ یہ بات خود اُن کے اپنے ملک کے مفاد میں ہے کہ اس بارے میں اصل حقائق معلوم کیے جائیں تاکہ وہ واضح طور پر ہاں یا نفی میں جواب دے سکیں۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اُنہیں امریکہ کی طرف سے لاکھوں ڈالر کی فوجی امداد روکنے کے بارے میں اُس وقت علم ہوا جب انہوں نے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کے غلام  نہیں ہیں بلکہ ایک آزاد مملکت ہیں۔ جب دو ملکوں کے سربراہان کی فون پر بات ہوتی ہے تو دونوں فریقین کے جانب سے یہ بات چیت ریکارڈ کی جاتی ہے۔ یوکرین کے صدر نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بات چیت کے سکرپٹ کو شائع  نہیں کیا جانا چاہئیے تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین میں ریکارڈ ہونے والی اس بات چیت کا سکرپٹ جاری نہیں کریں گے۔  انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بات کا جائزہ نہیں لیا ہے کہ آیا وائٹ ھاؤس کی جانب سے شائع کیا جانے والا سکرپٹ ان کے سکرپٹ سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ یہ دونوں سکرپٹ ملتے جلتے ہی ہوں گے۔ صدر زیلنسکی نے امریکہ اور یوکرین کے تحقیقات کاروں کو جو بائیڈن اور اُن کے بیٹے کے حوالے سے مشترکہ طور پر تحقیقات کرنے کی پیشکش کی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود غیر جانبدار رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے امریکہ کے آئیندہ صدارتی انتخابات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ صدر زیلنسکی سیاست میں آنے سے قبل ٹیلی ویژن اور فلم کے مزاحیہ اداکار تھے اور انہوں نے صدارتی انتخاب ملک سے کرپشن ختم کرنے کے وعدے پر لڑا تھا جس میں وہ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوئے۔ وہ امریکہ کو ناراض کیے بغیر اپنے بڑے ہمسایہ ملک روس سے تعلقات برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ انہوں نے جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی طرف سے ٹویٹس کے استعمال پر لطیف انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فون پر گفتگو کے بعد وہ امریکہ اور یوکرین کے تعلقات میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے۔ تاہم اگر کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اس کا علم انہیں ٹویٹ کے ذریعے ہو جائے گا۔


Latest News
Hashtags:   

امریکہ

 | 

یوکرینی

 | 
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

Sources