Wednesday 16 January 2019
Home      All news      Contact us      Urdu

بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ 

خیبر پختونخوا میں پچھلے چار سالوں کے دوران بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2015ء میں بچوں کے خلاف تشدد کے مجموعی طور پر 42 واقعات کے مقدمے درج ہوئے تھے ۔ ان میں 21 بچیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات بھی شامل ہوئے تھے، جب کہ سال 2016ء میں یہ واقعات 151 ہو گئے تھے مگر 2017ء میں یہ واقعات کم ہو کر 123رہ گئے تھے تاہم پچھلے سال یعنی 2018ء میں ان واقعات میں اضافہ ہو کر مجموعی طور پر بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے 213 مقدمات کا اندراج ہوا تھا۔ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والوں میں 181 بچے اور 32 بچیاں شامل تھیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ جس طرح بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اسی طرح پولیس فورس کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پچھلے چار سالوں میں بچوں کے خلاف تشدد میں ملوث 900 ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور ان میں بیشتر کو مختلف عدالتوں میں سزائیں بھی دلوائی گئی ہیں۔ پولیس افسر نے کہا کہ ماضی میں والدین یا دیگر رشتہ دار بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات چھپاتے تھے مگر اب ان واقعات کے مقدمے درج کئے جا رہے ہیں۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ میں سرگرم بین الاقوامی ادارے سے منسلک عمران ٹکر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی اور نا اہلی ہے تاہم اُنھوں نے کہا کہ اب چونکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بعض واقعات کے سامنے آنے سے متاثرہ والدین بھی ان واقعات کو پولیس کو رپورٹ کرتے ہیں جن کی وجہ سے اب قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ عمران ٹکر نے کہا کہ زیادہ تر وہ واقعات پولیس کے سامنے بیان یا رپورٹ کئے جاتے ہیں جن میں بچوں کو یا تو قتل کیا جاتا ہے یا ان کو طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ وہ واقعات پولیس کے عمل میں نہیں لائے جاتے جن میں متاثرہ بچوں یا بچیوں کو طبی امداد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اُنھوں نے کہا کہ مسئلہ تب حل ہو گا جب تمام تر واقعات پولیس کو رپورٹ کئے جائیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قسم کے واقعات میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرے اور ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کرے۔ حال ہی میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کے حل کے لئے تعینات کی جانے والی صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ باعث تشویش ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کے حقوق سے متعلق جنیوا کنونشن کا حصہ ہے لہذا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کی تحفظ کو یقینی بنائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متعلقہ قوانین کو عملی بنائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے استعداد کار کو بھی بڑھائے ۔ پنجاب کے ضلع قصور کے علاوہ مردان، نوشہرہ اور خیبر پختونخوا کے کئی ایک اضلاع میں پچھلے سال بچیوں کے خلاف جنسی تشدد میں ملوث کئی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مردان میں چھ سال قبل ایک کم سن بچی کو جنسی تشدد کے بعد ہلاک کرنے کے جرم میں ملوث اہم ملزم کو عدالت نے چند روز قبل پچاس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

Related news

Latest News
Hashtags:   

واقعات

 | 

اضافہ 

 | 
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

Sources