پختون تحفظ تحریک کی رہنما گلالئی حراست میں لیے جانے کے بعد رہا
Video     Photos     Pakistan     World     Islam     Health     Crime     Islamic News     Business     Society     India     Travel     Middle East     Sport     sci/tech      Contact      RSS
Search
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

پختون تحفظ تحریک کی رہنما گلالئی حراست میں لیے جانے کے بعد رہا

تاہم کئی گھنٹوں حراست میں رکھنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے گلالئی اسماعیل کو پاسپورٹ کیس میں ضمانت پر رہا کردیاہے۔ محمد سیلم خان ایڈوکیٹ نے بتایا کہ پاسپورٹ کیس میں گلائی اسماعیل کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا ، جبکہ صوابی میں درج مقدمے میں ان کی ضمانت پر رہائی کیلئے ہفتے کے روز مقامی عدالت سے رجوع کیا جائیگا   پختون تحفظ تحریک کی خاتون رہنما گلالئی اسماعیل کے والد پرویز اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گلالئی اسماعیل کو جمعہ کی صبح لندن سے واپسی پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں نے حراست میں لے لیاہے۔ پرویز اسماعیل نے بتایا کہ اسلام آباد کے بے نظیر انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں نے انہیں بتایا کہ گلالئی اسماعیل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ہے اس لئے انہیں تحویل میں لیکر ادارے کے دفتر منتقل کردیاگیاہے۔ ابھی تک گلالئی اسماعیل کی گرفتاری یا تحویل میں لینے کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری کیا گیاہے۔ پختون تحفظ تحریک کے ایک اور رہنما ڈاکٹر سید عالم محسود نے بھی گلالئی اسماعیل کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہےکہ مزید معلومات حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ فضل خان ایڈوکیٹ نے اس کارروائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے پختونوں کی تذلیل قرار دیا اور تمام پختونوں سے اس کے خلاف احتجاج کی اپیل کی ہے ۔ گلالئی اسماعیل کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے اور ان کا شمار پختون تحفظ تحریک کے اہم اور متحرک کارکنوں میں ہوتا ہے۔ اس سے قبل بھی تحریک کے کئی کارکنوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے تاہم بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔ پروفیسر محمد اسماعیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اسلام آباد کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے گلالئی اسماعیل کو صوابی پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور صوابی پولیس کے ایک دستے کو اسلام آباد طلب کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گلالئی اسماعیل کانام پختون تحفظ تحریک کے اُن 19 رہنماؤں میں شامل ہے جن کے خلاف صوابی پولیس نے پچھلے اگست کے دوسرے ہفتے میں مقدمہ درج کیا تھا۔ گلالئی اسماعیل قبل از گرفتاری ضمانت کرنے والوں میں شامل نہیں تھیں۔ اسماعیل کے بقول محمد سلیم خان ایڈوکیٹ کے وساطت سے صوابی کی عدالت سے گلالئی اسماعیل کے ضمانت اور قانونی کاروائی کیلئے رجوع کیا جارہا ہے۔

Read on the original site


Hashtags:   

پختون

 | 

تحفظ

 | 

تحریک

 | 

رہنما

 | 

گلالئی

 | 

حراست

 |